انٹرنیشنل

دُبئی میں مقیم کرایہ داروں کے لیے خوشیوں بھرا اعلان ہو گیا

دُبئی( ۔8 جنوری2021ء) دُنیا بھر کو گزشتہ ایک سال سے کورونا کی وبا کا سامنا ہے۔ امارات میں بھی سال 2020ء میں معاشی سرگرمیاں بُری طرح متاثر ہوئیں، جس کی وجہ سے ہزاروں افراد بے روزگار ہوئے یا انہیں کم تنخواہوں پر گزارہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ایسے وقت میں دُبئی کے رہائشی یونٹس اور ولاز کا کرایہ ادا کرنا خاصا مشکل ہو گیا ہے۔ اکثر پاکستانی بھی چھوٹے چھوٹے اپارٹمنٹس میں مل جُل کر رہائش اختیار کر کے بڑی مشکل سے مشترکہ طور پر کرایہ ادا کرتے ہیں۔ جبکہ کئی مالکان خراب حالات سے بے پرواہ کرائے بڑھانے کا تقاضا کرتے رہتے ہیں۔ تاہم اب دُبئی میں مقیم کرایہ داروں کے لیے بہت بڑی خبر آ گئی ہے۔ دُبئی حکومت نے کرایہ داری سے متعلق نیا قانون منظور کر لیا ہے، جس کے مطابق کوئی بھی مالک تین سال تک کرایہ نہیں بڑھا سکے گا۔
کرایہ داروں کے حق میں آنے والے اس قانون کا نوٹیفکیشن اگلے چند روز میں جاری ہو جائے گا، جس کے بعد اس قانون پر عمل درآمد لازمی ہوگا۔ دُبئی لینڈ ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل سلطان بطی بن مجرین نے بتایا ہے کہ جلد اس قانون کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا جائے گا جس کے کرایہ داری ایگریمنٹس میں مالکان کو پابند کیا جائے گا کہ وہ تین سال تک کرایہ نہیں بڑھا سکیں گے۔
اس قانون کے مطابق کرایہ نامہ لکھے جانے کی تاریخ سے لے کے آئندہ تین سال تک کسی بھی رہائشی یونٹ یا وِلا کا کرایہ بڑھانے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ڈائریکٹر جنرل کا مزید کہنا تھا کہ اس قانون سے دُبئی میں رہائش پذیر کرایہ داروں کو بڑا ریلیف ملے گا اور وہ دُبئی میں ہی قیام کو ترجیح دیں گے۔ اس کے علاوہ ان کی مالکان کے وقتاً فوقتاً کرایہ بڑھانے کے ناجائز تقاضوں سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ واضح رہے کہ کرایہ داری سے متعلق اس قانون کا مسودہ اگرچہ نومبر 2019ء میں ہی تیار کر لیا گیا تھا، تاہم اس کو لاگو کرنے میں تاخیر ہو گئی۔ جس کا اب آئندہ چند دنوں میں نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد نفاذ ہو جائے گا اور تمام مالکان کو اس کی پابندی کرنا لازمی ہوگا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *