انٹرنیشنل

” را” فنڈڈ زی نیوزکو لینے کے دینے پڑ گئے نیپالی وزیر اعظم نے مودی سرکار کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا اینکر سدھیر چوہدری کی بولتی بند کردی،بھارتی عوام شرم سے پانی پانی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نیپال کے چین کیساتھ سیاسی و تجارتی تعلقات بڑھتے جا رہے ہیں، اس پر بھارت میں شدید تشویش پائی جاتی ہے، اسی لئے بھارتی خفیہ ایجنسی را نے اپنے فنڈڈ ٹی وی چینل زی نیوز کے اینکر سدھیر چوہدری کو نیپال بھیج کر نیپالی وزیراعظم کے پی شرما اولی سے ان کا ایک انٹرویو ارینج کرایا، یہ انٹرویو ارینج کرانے کیلئے بھارتی آرمی چیف نے بھی نیپال کا گذشتہ ماہ دورہ کیا تھا۔ مقصد یہ تھا

کہ کائیاں اینکر اپنے سوالوں کی مدد سے نیپالی وزیراعظم کے منہ سے بھارت نیپال دوستی، اکھنڈ بھارت کی حمایت اور چین کی مخالفت میں کچھ جملے بلوا لے تا کہ اس کا سفارتی سطح پر فائدہ اٹھا کر نیپال اور چین میں دوریاں پیدا کی جا سکیں، لیکن اس انٹرویو کا الٹا اثر ہوا اور نیپالی وزیراعظم نے مودی سرکار کی پالیسیوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور اکھنڈ بھارت کی مخالفت کی۔ روزنامہ نوائے وقت میں عبداللہ شاد کی شائع خبر کے مطابق انٹرویو کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے والی را اب نیپالی وزیراعظم کے بیان کو کائونٹر کرنے کیلئے سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں۔ سدھیر چوہدری نے نیپالی وزیراعظم سے استفسار کیا کہ آپ کا اکھنڈ بھارت بارے کیا خیال ہے، ہندوئوں کو مضبوط ہونے کیلئے اکھنڈ بھارت قائم کرنا ہو گا ،اس کے جواب میں نیپالی وزیراعظم نے کہا کہ اکھنڈ بھارت کبھی قائم رہا ہی نہیں،یہ ایک جھوٹ ہے، یہ اصطلاح زمانہ قدیم میں برصغیر کیلئے استعمال کی جاتی تھی مگر خود اس میں بھی 5 ہزار سے زائد چھوٹی بڑی ریاستیں موجود تھیں ۔ چین کیساتھ تعلقات پر کے پی شرما اولی نے کہا کہ ہم مجبور نہیں کہ چین اور بھارت میں سے کسی ایک کو چنیں، ہم دونوں ممالک سے تعلقات بڑھائیں گے اور اپنے ملک کی معاشی حالت کی بہتری کیلئے تمام اقدامات کریں گے۔ رام مندر معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ اصل ایودھیا نیپال میں ہے اور یہاں پر ہی بھگوان رام پیدا ہوئے، صرف رام مندر بنانے سے رام کی جائے پیدائش تبدیل نہیں ہو جاتی۔ بھارت کے رام مندر کی مٹی بھی ماتھے پر لگانا ہندوئوں کیلئے بد شگونی ہے ۔ نیپال کے سیاسی نقشے پر نیپالی وزیراعظم نے کہا کہ نیپال کے کچھ علاقے بھارت کے زیر قبضہ ہیں اور نیپال اپنے سیاسی نقشے کو ہر جگہ پر ابھارتا رہے گا، جب تک یہ قبضہ قائم ہے تب تک نقشہ بھی قائم رہے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *