اہم خبریں

قطر کی خلیجی ممالک کے صلح کے بعد عالم اسلام کے لیے ایک اور خوشی کی خبرآ گئی

تعلقات بحال ہونے کے بعدامارات اور قطر اسی ہفتے تجارت اور فضائی و سمندری سفربحال کرنے جا رہے ہیں

دُبئی( 7 جنوری2021ء) سعودیہ کے العْلا شہر میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے اکتالیسویں سربراہ اجلاس کے انعقاد سے ایک روز قبل قطرکی سعودی عرب، یو اے ای اور بحرین سے کئی برسوں کی ناراضگی ختم ہو گئی اور ان تمام ممالک نے قطر سے تعلقات بھی بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کے بعد امیر قطر شیخ تمیم بن حمد نے خود جی سی سی کے سربراہ اجلاس میں شرکت کی ہے۔ اس حوالے سے ایک اور اچھی خبر یہ ہے کہ قطر اور امارات نے بھی اب ماضی کی تلخیاں ختم کر کے دوبارہ سے تمام نوعیت کے تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے خطے میں معاشی اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی سے اضافہ ہوگا۔ اماراتی وزیر خارجہ ڈاکٹر انور گرگش نے یہ اچھی خبر سُنائی ہے کہ قطر کے ساتھ تجارتی اور سفری تعلقات اسی ہفتے بحال کر دیئے جائیں گے جس کے بعد دونوں ممالک میں مقیم افراد سفر بھی کر سکیں گے اور تجارتی اشیاء کا تبادلہ بھی ممکن ہونے سے معاشی ترقی میں اضافہ ہو گا۔  ڈاکٹر گرگش نے ایک آن لائن پریس بریفنگ میں بتایا کہ قطر اور امارات جلد ایک دوسرے کے ممالک میں دوبارہ سفارت خانے بھی قائم کر دیں گے۔ سعودی عرب میں خلیجی تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس سے متعلق انہوں نے کہا کہ العلا اعلامیے سے قطر کے خلیجی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کا ایک نیا دور شروع ہونے کا امکان ہے۔ اگرچہ امارات اور قطر کے درمیان کچھ معاملات پرماضی میں اختلاف پائے جاتے ہیں ، جس کی وجہ سے اعتماد کی فضا قائم ہونے میں کچھ وقت درکار ہو گا، تاہم دونوں ممالک کی جانب سے تعلقات میں پیش رفت کے لیے تجارت، سرمایہ کاری اور فضائی و سمندری سفر بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔  اگلے چند روز میں دونوں ممالک کے درمیان سفر کا آغاز ہو جائے گا اور تجارتی سامان کی آمد و رفت بھی شروع ہو جائے گی۔قطر کے ساتھ دیگر ممالک کے بھی اپنے اپنے اختلافات ہیں۔ جن کے حل کے لیے خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیئے گئے ہیں۔ کچھ اختلافات معمولی نوعیت کے ہیں، جو جلد حل ہونے کی اُمید ہے،تاہم کچھ تنازعات کو حل کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہوگا۔تمام خلیجی ممالک کو ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترا م کرتے ہوئے شفاف انداز سے آگے بڑھنا ہو گا۔ اماراتی حکومت بھی قطر کے ساتھ ماضی کے اختلافات کو بھُلا کر آگے بڑھ رہی ہے۔ کیونکہ صلح جوئی سے معاملات حل کرنا ہی اماراتی پالیسی کا اہم اصول ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *