اہم خبریں

مولانا فضل الرحمان کی پالیسیاں، اہم رہنما نے راہیں جدا کر لیں

مانسہرہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین 12 جنوری2021ء) جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا بڑا دھچکا لگ گیا ہے۔ ایک اور رہنما نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کر لی۔تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا سے مولانا فضل الرحمن کو ایک اور بہت بڑا جھٹکا لگ گیا۔ سابق ایم پی اے اور جمعیت علمائے اسلام ف کے رہنما ابرابر تنولی نے باقاعدہ پارٹی چھوڑنے کا علان کر لیا ہے۔

انہوں نے مانسہرہ میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کی پالسیوں پر شدید تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ جے یو آئی ف کی پالیسوں کے باعث جمعیت چھوڑنے کا اعلان کر رہا ہوں۔ابرار تنولی نے مزید کہا کہ ہر فورم پر ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام کا مقابلہ کروں گا۔ابرار تنولی کا کہنا ہے کہ ابھی کسی دوسری جماعت میں شامل ہونے کا فیصلہ نہیں کیا۔وقت آنے پر ورکرز کی مشاورت سے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار کروں گا۔جے یو آئی ف کے سابق رہنما مولانا شیرانی کا جےیوآئی پاکستان کو جےیوآئی(ف) سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم کبھی جےیوآئی(ف) یا فضل الرحمان گروپ کا حصہ نہیں رہے، ہم ہمیشہ جمعیت علمائے اسلام کے دستورکے مطابق رکن رہے اور رہیں گے۔ انہوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہمیشہ جمعیت علمائے اسلام کے دستورکے مطابق رکن رہے اور رہیں گے۔ہمارا کوئی بھی رکن قرآن وسنت کے منافی کوئی اقدام نہیں کرےگا۔ اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ صداقت اوردیانت سے خالی ہے۔ ہمیں اکابرین سے سیاست وراثت میں ملی ہے۔ یہ تمام اراکین اب اس جماعت کے رکن نہیں رہے۔بلکہ جےیوآئی پاکستان کو جےیوآئی(ف) سے الگ کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ہم کبھی جےیوآئی(ف) یا فضل الرحمان گروپ کا حصہ نہیں رہے، ہم ہمیشہ جمعیت علمائے اسلام کے دستورکے مطابق رکن رہے اور رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دعوت کا محور تین باتیں ہیں، سچ بولو، سچ کا ساتھ دو ، جھوٹ نہیں بولیں گے، کسی ساتھی کو کسی کام کیلئے مجبور نہیں کیا جائے گا، حق کو چھپانے کیلئے باطل نہیں کیا جائے گا۔ مولانا فضل الرحمان بھٹک چکے ہیں،ہم ان کا ساتھ نہیں دیں گے، ہم مایوس نہیں ہوں گے بلکہ فریضے کیلئے آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہما ر ی جماعت کیلئے سات اصولی نکات ہوں گے ، جبکہ چار نظم ہوں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *