اہم خبریں

کیا ناپاکی حالت میں رات کو سو سکتے ہیں ؟ اسلام میں کیا حکم ہے؟

افضل یہی ہے کہ آدمی جلدی غسل کر کے پاک صاف ہوجائے، لیکن اگر نماز کے وقت تک غسل کو مؤخر کردے تو گناہ گار نہیں ہوگا۔ البتہ فجر تک غسل مؤخر کرنے کی صورت میں اگرہم بس۔تری کے بعد سونا ہو تو بہتر یہ ہے کہ آدمی استنجا اوروضو کرلے پھر سوجائے، اور پھر بیدار ہوکر غسل کرلے۔ چنانچہ مشکوۃ شریف کی روایت میں ہے:

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے رات کو جنابت لاحق ہوتی ہے (یعنی احتلام یا جم۔اع سے غسل واجب ہوتا ہے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ (اسی وقت) وضو کر کے عضو کو دھو کر سو جایا کرو۔  یہ وضو کرنا جنبی کے سونے کے لیے طہارت ہے، یعنی جنبی وضو کر کے سویا تو گویا وہ پاک سویا، لہٰذا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جسے رات کو احت۔لام ہو جائے یا جم۔اع سے فراغت ہو اور اس کے بعد سونے کا ارادہ یا بوجہ کسی ضرورت بے وقت غسلِ جنابت میں تاخیر کا خیال ہو تو ایسی شکل میں جنبی کا وضو کر لینا سنت ہے۔ اتنی بات اور سمجھ لیجیے کہ حدیث سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ صورتِ مذکورہ میں وضو کیا جائے۔  اس کے بعد اعضاء کو دھویا جائے۔ حال آں کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ صحیح مسئلہ یہ ہے کہ پہلے اعضاء کو دھونا چاہیے، اس کے بعد وضو کرنا چاہیے، اس شکل میں حدیث کی مذکورہ ترتیب کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہاں وضو کرنا اس لیے مقدم کر کے ذکر کیا گیا ہے کہ وضو کا احترام اور اس کی تعظیم کا اظہار پیش نظر تھا۔ 2۔حالت جنابت میں کھانا پینا یا کھانا پکانا درست ہے، بہتر یہ ہے کہ وضو کرکے کھائے پیے، اور اگر وضو کے بغیر صرف ہاتھ منہ دھوکر کھا پی لے تب بھی جائز ہے۔بچہ کو دودھ پلانے کے لیے ماں کا پاک ہونا ضروری نہیں ہے؛ لہٰذا بچہ رورہاہو تو عورت ناپاکی کی حالت میں دودھ پلاسکتی ہے،لیکن کوشش یہ کرنی چاہیے کہ جلد از جلد غسل کر لیا جائے، حالتِ جنابت میں زیادہ دیر تک نہ رہنا چاہیے۔البحر الرائق شرح كنز الدقائق – (1 / 49): والمنقول في فتاوى قاضيخان الجنب إذا أراد أن يأكل أو يشرب فالمستحب له أن يغسل يديه وفاه وإن ترك لا بأس.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *